اسلام آباد۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”ماہانہ ترقیاتی رپورٹ جولائی 2026“ جاری کرتے ہوئے نئے مالی سال 2026-27 کے معاشی اہداف، قومی ترقیاتی ترجیحات اور حکومتی حکمتِ عملی کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ اس موقع پر میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے بروقت اور مو¿ثر معاشی فیصلوں کے ذریعے ملک کو دیوالیہ پن کے خطرے سے نکال کر معاشی بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے جبکہ اب حکومت کی اولین ترجیح اس مشکل سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کا ہر قیمت پر تحفظ کرتے ہوئے اسے ”اڑان پاکستان“ کے قومی ترقیاتی فریم ورک کے تحت پائیدار اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور مشترکہ قومی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت غیر معمولی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹیں، بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاو¿ اور عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی کیفیت ترقی پذیر ممالک کے لیے سنگین چیلنجز بن چکی ہے۔ ان حالات میں مضبوط معاشی حکمتِ عملی، مالیاتی نظم و ضبط اور دور اندیش اقتصادی پالیسیوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ان عالمی چیلنجز کے باوجود اپنی معاشی بنیادوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پ±رعزم ہے۔ملکی معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی معیشت نے وسیع بنیادوں پر بحالی کا مظاہرہ کیا اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے میں 2.9 فیصد، خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے میں 3.5 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ زراعت، صنعت اور خدمات تینوں بڑے شعبوں کی مثبت کارکردگی نے مجموعی معاشی نمو کو تقویت دی اور اس بات کی عکاسی کی کہ ملکی معیشت تدریجاً مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مہنگائی کے دباو¿ کے باوجود حکومت نے مو¿ثر معاشی نظم و نسق کے ذریعے قیمتوں کو قابو میں رکھا اور مالی سال 2026-27 میں افراطِ زر کی شرح 7.1 فیصد رہی جو حکومت کے مقررہ 7.5 فیصد ہدف سے بھی کم ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ترسیلاتِ زر میں 8.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 38.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے نہ صرف لاکھوں پاکستانی خاندانوں کو مالی سہارا ملا بلکہ ملک کی بیرونی معاشی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے دوران اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ خدمات کے شعبے کی برآمدات میں 18.7 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کا حجم 8.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر ہوگیا، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی برآمدی استعداد اور عالمی منڈی میں خدمات کے شعبے کی بہتر کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور درآمدات میں اضافے کے باوجود پاکستان جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رکھنے میں کامیاب رہا، جو بیرونی شعبے میں مالی نظم و ضبط اور محتاط معاشی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 4 فیصد مقرر کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ہدف ماضی کی طرح مالیاتی اور بیرونی عدم توازن پیدا کیے بغیر حاصل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت میں اضافے، برآمدات کے فروغ، نجی سرمایہ کاری، اختراع، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہوگا، جبکہ نجی شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنا کر پائیدار اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال میں قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور اور پسماندہ طبقات کی معاونت اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار اور کاروباری مواقع کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے عوامی خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں ردوبدل کسی انتظامی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿ سے براہِ راست منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بین الاقوامی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے باوجود مصنوعی طور پر قیمتیں کم رکھی گئیں، جس کے باعث قومی معیشت شدید مالیاتی دباو¿ اور عدم توازن کا شکار ہوئی۔احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت ایسے فیصلے کر رہی ہے جو وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد اور معاشی استحکام کو یقینی بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں حکومت اس کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جعلی نوٹیفکیشنز، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ کرایوں اور مال برداری کے نرخوں میں بلاجواز اضافے کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی صنعتی شعبے نے مالی سال 2025-26 کے دوران نمایاں بحالی کا مظاہرہ کیا۔ جولائی تا مئی کے عرصے میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) کی شرح نمو 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہی شعبہ 1.1 فیصد منفی نمو کا شکار تھا۔ یہ تبدیلی حکومتی معاشی پالیسیوں اور صنعتی سرگرمیوں میں بحالی کی واضح علامت ہے۔انہوں نے بتایا کہ 22 بڑے صنعتی شعبوں میں سے 16 نے مثبت ترقی ریکارڈ کی، جبکہ گاڑیوں کی صنعت میں غیر معمولی 58.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ برقی آلات، تمباکو، خوراک، ملبوسات، مشروبات اور معدنی مصنوعات کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی، جو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ صنعتی پیداوار وسیع بنیادوں پر بحال ہو رہی ہے اور ملکی معیشت مستحکم ترقی کی جانب گامزن ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی مالیاتی اصلاحات کے باعث قومی محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی وصولیاں 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 15.2 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محصولات میں اضافے سے نہ صرف قومی خزانہ مضبوط ہوا بلکہ ترقیاتی اخراجات کے لیے بھی زیادہ وسائل دستیاب ہوئے، جس سے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں پر مو¿ثر انداز میں عملدرآمد کا موقع ملا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد، مو¿ثر نگرانی اور مالیاتی جائزے کے باعث قومی ترقیاتی پروگرام کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبی وسائل، پن بجلی، توانائی اور محصولات سے متعلق منصوبوں پر تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کے باعث ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ہوا، تاہم منصوبوں کی سخت مالیاتی جانچ پڑتال سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 12.6 ارب روپے کی بچت بھی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری سے قبل ان کے معاشی اور مالیاتی پہلوو¿ں کا جامع تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ قومی وسائل کا مو¿ثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے 21 اجلاس منعقد ہوئے، جن میں 330 ترقیاتی ایجنڈا نکات پر غور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے 192 ایجنڈا نکات کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ترقیاتی منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک (ECNEC) کو بھجوائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ صرف جون 2026 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے تین اجلاس منعقد ہوئے، جن میں 72 ایجنڈا نکات زیر غور آئے، 49 تجاویز منظور کی گئیں جبکہ 21 منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو ارسال کیے گئے۔احسن اقبال نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں منظور کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً دو لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور چار لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نہیں بلکہ ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسمارٹ سٹی ماڈل متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ ماڈل میں شہریوں کی فعال شمولیت، جمہوری طرزِ حکمرانی، بہتر بلدیاتی نظام، شفافیت اور جدید شہری انتظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی، جس سے اسلام آباد کو جدید، مو¿ثر اور شہری دوست دارالحکومت بنانے میں مدد ملے گی۔تعلیمی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے نظام کا جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جامعات کے نصاب کو چوتھے اور پانچویں صنعتی انقلاب کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایسے ڈگری پروگرامز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جو ملکی اور عالمی منڈی کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے، جبکہ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور مستقبل کی مہارتوں پر مبنی نئے ڈگری پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نصاب میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو مرتب کیا جائے گا تاکہ وہ نئی نسل کو بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے لیے بہتر انداز میں تیار کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ”اڑان پاکستان“کے تحت نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں، لیپ ٹاپ پروگرام، سائبر سکیورٹی، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، جینومکس اور دیگر ابھرتے ہوئے علوم سے آراستہ کرنا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل عالمی معیشت میں مو¿ثر اور قائدانہ کردار ادا کر سکے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اختراع، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی اعلیٰ تعلیمی استعداد کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کےلئے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے تاکہ نوجوان نسل کو مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی، ہائر ایجوکیشن کمیشن کےساتھ مشاورت سے ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کر رہی ہے۔ اس اصلاحاتی عمل کے تحت ایسے ڈگری پروگرامز کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے جو قومی اور بین الاقوامی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے، جبکہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نئے اور جدید ڈگری پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ نصابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ وہ نئی نسل کی مو¿ثر رہنمائی کرتے ہوئے انہیں چوتھے اور پانچویں صنعتی انقلاب کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ امریکہ کے دورے کے دوران متعدد ممتاز جامعات کے ساتھ تعلیم، تحقیق، اساتذہ کی تربیت اور علمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جو ملک میں عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت یو ایس۔پاکستان نالج کوریڈور پروگرام کو دوبارہ فعال کر رہی ہے تاکہ پاکستانی طلبہ، محققین اور اساتذہ کو بین الاقوامی جامعات کے ساتھ تحقیق، علمی اشتراک اور اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا انسانی سرمایہ، خصوصاً باصلاحیت نوجوان ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، جدید مہارتیں اور عالمی معیار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف قومی ترقی بلکہ عالمی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت روایتی شعبوں کے بجائے مصنوعی ذہانت، ببگ ڈیٹا، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، خلائی مصنوعی سیاروں، جینومکس اور جدید ڈیجیٹل علوم پر استوار ہوگی۔ اس لیے نوجوانوں کو انہی شعبوں میں مہارتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ پاکستان عالمی مسابقت میں اپنا مو¿ثر مقام حاصل کر سکے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل مہارتوں، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے آراستہ کرنا ”اڑان پاکستان“کے انسانی وسائل کی ترقی کے ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو دنیا کے نمایاں ڈیجیٹل مراکز میں شامل کرنے کے لیے مضبوط، مربوط اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں اختراع، تحقیق، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کو فروغ ملے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کے روزگار اور کاروباری مواقع میسر آئیں۔انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے دورے کے دوران پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے متعدد نئے امکانات سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے مراکز قائم کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ ملک میں جدید اختراع، اسٹارٹ اپ کلچر اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔احسن اقبال نے اعلان کیا کہ دنیا کے معروف عالمی انوویشن پلیٹ فارم پلگ اینڈ پلے نے پاکستان میں اپنا دفتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ملکی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، اختراع، تحقیق، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ”اڑان پاکستان“ کے تحت حکومت نے صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کثیرالقومی کمپنیوں کے ساتھ باقاعدہ اصلاحاتی مشاورت کا آغاز کر دیا ہے تاکہ کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنایا جا سکے، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے اور برآمدات میں پائیدار اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف 2029 تک برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، جس کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور ایسی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں جو پاکستان کی عالمی مسابقت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان مختلف دوست ممالک کے ساتھ ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دے رہا ہے تاکہ زرعی ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، تحقیق، ٹیکنالوجی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں مشترکہ پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ترکیہ نے زرعی جدیدکاری، موسمیاتی مزاحمت اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔اسی طرح پاکستان اور ازبکستان نے تعلیم، تجارت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان پائیدار آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی مزاحمت، تحقیق، تکنیکی تعاون، علم کے تبادلے اور جدت پر مبنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔اپنی گفتگو کے اختتام پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ حکومت عالمی معاشی چیلنجز اور بیرونی جھٹکوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکن اقدام کے ذریعے معاشی استحکام کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے قومی ترقیاتی فریم ورک کے تحت اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ برآمدات، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، انسانی وسائل کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا بنیادی مقصد صرف معاشی اشاریوں میں بہتری لانا نہیں بلکہ معاشی استحکام کو ہر پاکستانی کی زندگی میں حقیقی بہتری، باعزت روزگار، بہتر معیارِ زندگی اور مشترکہ قومی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ پاکستان پائیدار، جامع اور مستقبل سے ہم آہنگ ترقی کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھ سکے۔
You can share this post!
administrator



