مری۔۔۔۔۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے، (ن )لیگ نے ہمیشہ مخالفین سے اچھا سلوک کیا،امید نہیں تھی پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا، (ن) لیگ کے اچھے امیدواروں کی شکست کے عوامل کو بھی دیکھنا ہوگا،انتخابات کے 2 مرحلوں میں (ن )لیگ کو کامیابی ملی، عوام نے ایک بار پھر ن لیگ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اگر (ن) لیگ نے ڈلیور نہیں کیا تو یہاں کے لوگ ناراض ہوں گے،آزاد کشمیر کو زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں۔ ہفتہ کو پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر و سابق وزیر اعظم کی زیرِ صدارت مری میں ہونے والا (ن)لیگ کا اجلاس ہوا جس میں (ن)لیگ قیادت نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کے لیے ناموں پر غور کیا۔اجلاس میں آزاد کشمیر کے نو منتخب اراکین کو مبارکباد اور ظہرانہ دیا گیا۔اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے شرکت کی۔اجلاس میں ایاز صادق، خواجہ آصف، سعدرفیق، امیر مقام ،آزاد کشمیر میں (ن )لیگ کے تمام ٹکٹ ہولڈرز بھی اجلاس میں شریک تھے۔قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف اجلاس میں شرکت کےلئے اسلام آباد سے مری پہنچے تھے۔گورنمنٹ ہاس میں نو منتخب (ن )لیگی اراکینِ کشمیر اسمبلی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔مسلم لیگ (ن)آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو مبارک باد دیتا ہوں، آزاد کشمیر کو زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے اچھے امیدواروں کی شکست کے عوامل کو بھی دیکھنا ہوگا۔نواز شریف نے کہا کہ انتخابات کے 2 مرحلوں میں (ن )لیگ کو کامیابی ملی، عوام نے ایک بار پھر ن لیگ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اگر (ن) لیگ نے ڈلیور نہیں کیا تو یہاں کے لوگ ناراض ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ آزاد کشمیر میں سڑکیں اور ہسپتال بننے چاہئیں، اے جے کے کا بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہو۔ انہوںنے کہاکہ ملک آگے بڑھ رہا ہے، شہباز شریف کی محنت رنگ لا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے حکومت سنبھالی تو ملکی حالات بہت خراب تھے، پنجاب میں ترقی کی بنیاد شہبازشریف نے رکھی جسے مریم نواز نے آگے بڑھایا، آزاد کشمیر کے عوام پنجاب کی ترقی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔صدر مسلم لیگ (ن )نے کہا کہ جس طرح پنجاب بدل رہا ہے اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی بدلنا چاہیے، اب عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امید نہیں تھی کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی شکایت کا موقع ملے گا، آزاد کشمیر میں پی پی پی کا وزیراعظم تھا۔نواز شریف نے کہا کہ کچھ شکایات ہم تک پہنچیں جس کا مجھے افسوس ہوا، ماضی میں آزاد کشمیر کی حکومت عوامی امنگوں پر پوری نہ اتر سکی، یہاں کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے۔نوازشریف نے کہا کہ مخالفین نے صرف نعرے لگائے، ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا، ملک پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے جا رہا ہے، بہت جلد مسائل پر قابو پالیں گے۔نوازشریف نے کہا کہ امیر مقام اور رانا ثنا اللہ نے کشمیر الیکشن میں دن رات محنت کی، امیر مقام ایسے کمپین کررہے تھے جیسے ان کا اپنا الیکشن ہو، جس طرح پنجاب بدلا اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی بدلیں گے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کابینہ کا انتخاب میرٹ پر ہونا چاہیے، ہم نے اپنے منشور پر سو فیصد عمل کرنا ہے، آزاد کشمیر میں ترقیاتی سکیمیں بھرپور انداز میں شروع ہونی چاہئیں۔
You can share this post!
administrator



