DAILY FARZAND E BALOCHISTAN

یمن میں کشیدہ صورتحال کو کسی صورت ایران سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، عباس عراقچی

یمن میں کشیدہ صورتحال کو کسی صورت ایران سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، عباس عراقچی

تہران۔۔۔۔۔۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یمن میں سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایک دوسرے پر جاری حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یمن کے مسئلے کا کوئی ملٹری حل نہیں، فریقین خطے میں مزید تباہی سے بچنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کریں۔ایران کے سرکاری اخبار ‘ایران ڈیلی’ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، انہوں نے یمن میں جاری حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا راسخ عقیدہ ہے کہ یمن کے معاملے، باب المندب کی بحری گزرگاہ کے تنازعہ اور خطے کے دیگر تمام تر حساس مسائل کا حل طاقت کے استعمال یا کسی فوجی کارروائی میں نہیں ہے۔انہوں نے سفارتی ذرائع کو فعال کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا، ایرانی وزیر خارجہ نے یمن کے بحران میں ایران کے ملوث ہونے کے تمام تر الزامات اور تاثر کو سختی سے رد کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ یمن کی موجودہ اور کشیدہ صورتحال کو کسی بھی صورت میں ایران سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، باب المندب کے اسٹریٹجک علاقے اور اس کے گردونواح میں رونما ہونے والے تمام تر ناخوشگوار واقعات، حملے اور تصادم دراصل یمن، سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان سالہا سال سے چلے آنے والے قدیم تنازعات اور حل طلب مسائل کا نتیجہ ہیں۔خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان سرحد پار حملوں اور جوابی کارروائیوں میں شدت پیدا ہو چکی ہے، جہاں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحادی افواج نے یمن کی ساحلی گورنریٹ الحدیدہ اور اس کے قریب واقع جزیرہ کمران میں حوثی جنگجوں کے عسکری ٹھکانوں پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں حوثی انتظامیہ کی جانب سے حملوں پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا گیا۔

administrator

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest news