DAILY FARZAND E BALOCHISTAN

3 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا خانکی اور قادر آباد سے ہوتا ہوا چنیوت کی حدود میں داخل ہوگا، فلڈ کنٹرول روم کا الرٹ

3 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا خانکی اور قادر آباد سے ہوتا ہوا چنیوت کی حدود میں داخل ہوگا، فلڈ کنٹرول روم کا الرٹ

لاہور۔۔۔۔۔محکمہ آبپاشی پنجاب کے ترجمان کے مطابق خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر دریائے چناب میں بلند درجے کا سیلاب ہے اورصورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے دریائی بیلٹ کے قریب نشیبی بستیوں سے انخلا ءکی ہدایات جاری کردی ہیں۔ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں خانکی بیراج پر 2 لاکھ 61 ہزار 463 کیوسک پانی کی آمد اور 2 لاکھ 56 ہزار 63 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا یہاں بلند درجے کا سیلاب ہے۔قادرآباد بیراج پر 2 لاکھ 67 ہزار 159 کیوسک پانی کی آمد اور 2 لاکھ 52 ہزار 159 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق کیو بی لنک نہر میں 15 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ یہاں بھی بلند درجے کا سیلاب ہے۔دریائے چناب میں مرالہ بیراج پر ایک لاکھ 94 ہزار 452 کیوسک پانی کی آمد اور ایک لاکھ 74 ہزار 452 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام پر 17 ہزار 500 کیوسک بہا ﺅریکارڈ کیا گیا ہے اور پانی میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جسڑ پر 24 ہزار 940 کیوسک، راوی سائفن پر 32 ہزار 577 کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر 32 ہزار 138 کیوسک بہا ﺅریکارڈ کیا گیا جہاں صورتحال معمول کے مطابق اور پانی کی سطح مستحکم ہے۔ترجمان کے مطابق دریائے راوی میں بلوکی ہیڈورکس پر 73 ہزار 625 کیوسک پانی کی آمد اور 50 ہزار 725 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں کم درجے کا سیلاب ہے تاہم صورتحال مستحکم ہے۔دریائے راوی پر سدھنائی بیراج میں 19 ہزار 607 کیوسک پانی کی آمد اور 3 ہزار 607 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا جبکہ وہاں بھی صورتحال معمول کے مطابق اور پانی کی سطح مستحکم ہے۔بھارتی آبی جارحیت کے بعد ریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل ہونے سے دریائی بیلٹ کے قریب چنیوٹ کی نشیبی بستیوں سے انخلا ءکی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق 3 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا خانکی اور قادر آباد سے ہوتا ہوا چنیوت کی حدود میں داخل ہوگا، سیلابی صورتحال کے پیش نظر فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردئیے گئے ہیں کیونکہ آئندہ چند گھنٹوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا۔حافظ آباد میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی چھوڑے جانے کے بعد پانی کے بہا ﺅمیں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک پانی کی آمد جبکہ 2 لاکھ 30 ہزار 234 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث یہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ننکانہ صاحب میں دریائے راوی ہیڈ بلوکی کے مقام پر پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ہے، جہاں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہیڈ بلوکی پر پانی کی آمد 73 ہزار 625 کیوسک جبکہ اخراج 50 ہزار 725 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے دریائے راوی کے کنارے آباد شہریوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد اپنے اہل خانہ، مویشیوں اور ضروری سامان کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ دریائے راوی کے کنارے آباد شہری بلاتاخیر محفوظ مقامات پرمنتقل ہوں، ہیڈبلوکی پردریائےراوی میں کشتی چلانے پر دفعہ144کے تحت پابندی نافذ ہے، شہری ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب کے کناروں پر رہنے والے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔سیالکوٹ، نارووال اور گوجرانوالہ کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ میں دریائے چناب کے کناروں پر رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریبی مواضعات بھی زیرآب آسکتے ہیں، جبکہ ملتان اور مظفرگڑھ کے نشیبی دیہات کے لیے بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ ہیڈ مرالہ سے ہیڈ تریموں تک دریائے چناب سے ملحقہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہےمون سون بارشوں کے باعث بھی پنجاب کے دریاﺅں میں پانی کے بہاﺅ میں اضافہ ہونے لگا۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، تربیلا میں پانی کا بہا ﺅ3 لاکھ 36 ہزار، جبکہ چشمہ میں 3 لاکھ 2 ہزار کیوسک ہے۔دریائے راوی میں جسڑ شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہا نارمل ہے، نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے،گجرات نالہ بھمبر اور وزیرہ آباد نالہ پلکھو میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاﺅں کے بہا ﺅمیں اضافہ ہوا۔

administrator

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest news