کراچی۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کی ازسرنو بحالی کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ چین، روس، ترکیہ اور سعودی عرب کی جانب سے اس اہم صنعتی منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔وزارتِ صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق چین اور روس کے سرمایہ کاروں کے بعد ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے بھی پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی ممکنہ سرمایہ کاری کے حوالے سے حکومت سے تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت اسٹیل ملز کی سالانہ پیداواری صلاحیت کو موجودہ سطح سے بڑھا کر تقریباً 30 لاکھ ٹن تک لے جانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے پلانٹ اور مشینری کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے تاکہ ادارے کو عالمی معیار کے مطابق دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔وزارتِ صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے سلسلے میں چینی اور روسی کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیم نے اسٹیل ملز کا دورہ بھی کیا ہے، جہاں ماہرین پلانٹ، مشینری اور مجموعی پیداواری استعداد کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) کے امکانات بھی زیر غور لا رہی ہے تاکہ پاکستان اسٹیل ملز کو دوبارہ فعال بنا کر قومی اسٹیل صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔حکومتی ذرائع نے بتایاکہ اسٹیل ملز کی بحالی سے نہ صرف ملکی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جبکہ درآمدی اسٹیل پر انحصار کم ہونے سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت میں بھی مدد ملے گی۔
You can share this post!
administrator



