کوہاٹ /پشاور۔۔۔۔۔۔کوہاٹ میں پرانی پولیس لائن سے ملحقہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران زوردار دھماکے کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد دھماکوں اور شدید فائرنگ کے نتیجے میں پندرہ پولیس اہلکاروں سمیت 21افراد شہید اور 80سے زائد زخمی ہوگئے ، دھماکوں اور اور فائرنگ کی آوازوں سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان جواد آفریدی اور اعلیٰ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ، فورسز کی جوابی کارروائی میں چھ حملہ آور بھی مارے گئے ۔شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری، ڈی ایس پی سٹی ڈی ڈی عصمت اللہ اور ان کے بھائی انسپکٹر نعمت، فرنٹیئر ریزرو پولیس کے سب انسپکٹر اشتیاق کے علاوہ 11 دیگر پولیس اہلکار شامل ہیں۔ شہید ہونے والے عام شہریوں میں اورکزئی سے تعلق رکھنے والے چلڈرن سپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل، خوشحالی بینک کے منیجر اسحاق علی سکنہ اورکزئی، لقمان اور اس کے دو کمسن بچوں سمیت چھ افراد شامل بتائے جاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ نے واقعہ میں 17 افراد کے شہید اور 61 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔ابتدائی جاری کردہ فہرست کے مطابق زخمیوں میں ایس پی ابراہیم اللہ، ایلیٹ فورس کے ڈی ایس پی یوسف، لائن آفیسر رحمت اللہ، سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر صادق رحمن اور ٹریفک انچارج عرب جان سمیت متعدد پولیس اور سپیشل برانچ اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں میں عام شہری بھی شامل ہیں تاہم پولیس اہلکاروں کی تعداد زیادہ ہے۔عینی شاہدین کے مطابق کوہاٹ ہنگو روڈ پر پرانی پولیس لائن کے قریب واقع جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز شہر کے مختلف علاقوں میں سنی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد یکے بعد دیگرے مزید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ علاقے میں شدید فائرنگ بھی شروع ہوگئی جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی مسجد کی بیرونی دیوار سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں شدید نوعیت کا دھماکہ ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد حملہ آور پرانی پولیس لائن میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان دوطرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران سپیشل کمانڈوز نے سنائپر فائرنگ کے ذریعے چھ حملہ آوروں کو ہلاک کردیا سینٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق 7 مسلح دہشتگرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے، پولیس اور سی ٹی ڈی نےدہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور 6 دہشتگرد ہلاک گئے سینٹرل پولیس آفس کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں خود کش بمبار اور اسنائپر شامل ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ جامع مسجد کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا ، قریبی متعدد دکانوں، ایک پٹرول پمپ اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ مقامی شہری بھی بڑی تعداد میں موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو ملبے سے نکالنے سمیت دیگر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ منتقل کیا گیا، جاں بحق افراد کی لاشیں بھی ہسپتال پہنچائی گئیں۔ دھماکے کے بعد شہر میں ایمبولینسوں کے سائرن گونجتے رہے جبکہ جائے وقوعہ اور ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔دھماکے کے بعد کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیاجبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیاادھردھماکے کے بعد کوہاٹ اور پشاور کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جبکہ بڑی تعداد میں شہری زخمیوں کو خون کا عطیہ دینے اور دیگر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچے۔حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جاں بحق افراد کی حتمی تعداد، دھماکے کی نوعیت، حملے کے طریقہ کار اور دیگر محرکات کے بارے میں مزید تفصیلات متعلقہ حکام کی حتمی تصدیق کے بعد سامنے آئیں گی ۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ واقعے کے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لےکر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے۔سہیل آفریدی نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کیلئے دستیاب وسائل بروئےکار لائے جائیں، ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، شدید زخمیوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔
You can share this post!
administrator



