DAILY FARZAND E BALOCHISTAN

موجودہ نظام نااہلی کا شاہکارہے پورا نظام تبدیل کرنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمان

موجودہ نظام نااہلی کا شاہکارہے پورا نظام تبدیل کرنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمان

کراچی۔۔۔۔۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور نااہلی کا شاہکار بن چکا ہے، تعلیم، صحت، روزگار، انفرا اسٹرکچر اور بنیادی شہری سہولیات سمیت تمام اہم شعبے تباہ حالی کا شکار ہیں، عوام کو ان کا حق نہیں مل رہا، اس لیے آئین کی بالادستی قائم کرنے کے ساتھ پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس آئین سے ماورا نہیں بلکہ آئینی طریقہ کار اور عوامی رائے کے مطابق قائم کیے جانے چاہئیں۔ادارہ نورحق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جو حکومت عوام کی مرضی اور حقیقی مینڈیٹ کے ساتھ وجود میں نہ آئے، وہ کسی اچھے منصوبے یا خیال کو بھی مو¿ثر انداز میں آگے نہیں بڑھا سکتی۔ عوام کی رائے کو نظرانداز کرنے سے اعتماد کا بحران پیدا ہوتا ہے اور موجودہ نظام میں یہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی اور عام انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ کو نقصان پہنچایا گیا، شفاف انتخابات کے بغیر جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔ عوام کو اپنے ووٹ کا حقیقی حق ملنا چاہیے اور انتخابی عمل کو ہر قسم کی مداخلت اور بے ضابطگی سے پاک کرنا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمان نے میر رضا قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پولیس کا پورا نظام ایکسپوز ہوگیا ہے۔ اگر کسی پر دباو¿ ہے تو اسے سامنے آنا چاہیے اور قوم کو بتایا جائے کہ پولیس کو کس طرف سے دباو¿ کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میر رضا قتل کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔امیر جماعت اسلامی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے اور مکہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد امت مسلمہ کے اتحاد کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ ایران، مصر، قطر سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ مسلم دنیا ایک مضبوط، مو¿ثر اور متحد پلیٹ فارم پر اپنا کردار ادا کرسکے۔غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسرائیل مسلسل فلسطینیوں پر بمباری کررہا ہے جبکہ امریکہ اسرائیل کا پشت بان بنا ہوا ہے۔ امریکی حکومت چند ہاتھوں میں یرغمال بن چکی ہے۔ مسلم ممالک کے دفاعی اتحاد کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو واضح اور دوٹوک پیغام دینا چاہیے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ محض سیاسی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے۔ مسلم دنیا کو صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے فلسطینی عوام کے تحفظ اور غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کیلئے عملی اور مو¿ثر کردار ادا کرنا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام سے بھاری رقم وصول کررہی ہے لیکن جس مقصد کیلئے یہ رقم لی گئی تھی، اس پر خرچ نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اب تک پیٹرولیم لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کرچکی ہے۔ اگر اس رقم میں سے ڈیڑھ سے دو ہزار ارب روپے بھی ریفائنریوں کی بہتری اور تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر خرچ کیے جاتے تو ملک کے درآمدی بل میں اربوں ڈالر کی بچت ہوسکتی تھی۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈال کر لیوی وصول کی لیکن اس کے استعمال اور نتائج کے حوالے سے عوام کو مطمئن نہیں کیا گیا۔ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال کردیا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ بجلی اور گیس کے بھاری بلوں اور مختلف ٹیکسوں نے متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 7 اگست کو عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کا مقصد کسی قسم کی بدامنی پیدا کرنا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کیلئے پرامن اور منظم جدوجہد کرنا ہے۔ احتجاج کے دوران ایمبولینسوں کو راستہ دیا گیا اور شہریوں کی مشکلات کا بھی خیال رکھا گیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ 16 اگست کو چاروں صوبوں کے گورنر ہاو¿سز جبکہ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاو¿س کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کیلئے پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گی اور حکومت کو عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمان نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے معاملے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے قومی سانحے کے ذمہ داروں کو مکمل طور پر بے نقاب نہیں کیا جاسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی رہنما کے قتل کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے ڈاکٹر سمعیہ کے ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹوئٹ نے موجودہ نظام کا کچا چٹھا کھول دیا ہے اور اس سے حکومتی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانی شہری یرغمال ہیں لیکن وفاقی حکومت ان کی رہائی کیلئے مو¿ثر اقدامات نہیں کرسکی۔ ہم نے حکومتی دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی مو¿ثر جواب نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائے فوری اور مو¿ثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئین سے ماورا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آئین کے مطابق اور عوامی رائے سے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جاسکتے ہیں تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، تاہم کسی بھی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کا قیام سیاسی مفادات کے بجائے آئینی تقاضوں اور عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں آئین کی بالادستی ہو، عوام کے ووٹ کا احترام کیا جائے، عام شہری کو مہنگائی اور غیر ضروری ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات ملے اور ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوام کی خدمت کریں۔ جماعت اسلامی عوام کے بنیادی حقوق، شفاف انتخابات، آئین کی بالادستی اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اپنی پرامن اور منظم جدوجہد جاری رکھے گی۔

administrator

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest news