واشنگٹن (جی این ایم)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے، تہران کے ساتھ رابطے باقاعدہ مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہیں، میری ترجیح فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل اور معاہدہ ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے مذاکراتی فریم ورک کے مطابق جاری ہیں، آبنائے ہرمز کے حوالے سے معاہدہ پہلے ہی موجود ہے، ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق بھی معاہدہ کیا جائے گا۔امریکی صدر نے دعوی کیا کہ ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر کی درخواست پر منسوخ کیا گیا، خطے کے ممالک نے کشیدگی میں اضافے سے گریز کی اپیل کی، جس کے بعد حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا، اگر ایران پر حملہ کیا جاتا تو یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا اس لیے میری اولین ترجیح معاہدہ کرنا ہی ہے، مشرقِ وسطی میں امریکہ کے متعدد اتحادی بھی فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کے حامی ہیں، اسی لیے موجودہ صورتحال میں مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
- August 4, 2026
0
10
Less than a minute
You can share this post!
administrator



