واشنگٹن ۔۔۔۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی حملہ منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے کیونکہ انہیں تہران اور مشرقِ وسطی کے چند دیگر ممالک کی جانب سے کارروائی موخرکرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی تاہم امریکی افواج حملہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ ایران پر غیر معمولی فوجی طاقت کے ساتھ حملہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور مسلح تھا۔ ان کے مطابق امریکی فوج کی تیاری کی سطح دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی مثال آپ تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور مشرقِ وسطی کے چند دیگر ممالک نے واشنگٹن سے حملہ روکنے کی درخواست کی، کیونکہ ایک ایسے ابتدائی معاہدے کے خدوخال طے پا گئے تھے جو موجودہ بحران کے حل کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر کھولنے اور ایران کے مبینہ جوہری خطرے کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے حملہ منسوخ کرنے کا فیصلہ دنیا کے مفاد اور ایران کے مستقبل اور خوشحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا، تاہم یہ فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ جلد از جلد حتمی معاہدہ طے پا جائے۔ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا کہ اسرائیل نے بھی اس عزم میں شمولیت اختیار کر لی ہے، اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب چند روز قبل میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے شعبے سے متعلق تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری کر رہے ہیں اور حتمی فیصلے کا انتظار صدر ٹرمپ کی منظوری پر تھا۔
- August 3, 2026
0
8
Less than a minute
You can share this post!
administrator



