DAILY FARZAND E BALOCHISTAN

چین اورپاکستان کا زرعی معیار بندی اور غذائی کوالٹی کے فروغ کےلئے تعاون پر اتفاق

چین اورپاکستان کا زرعی معیار بندی اور غذائی کوالٹی کے فروغ کےلئے تعاون پر اتفاق

فیصل آباد۔۔۔۔۔۔پاکستان کی یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) اور چینگڈو انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈائزیشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے جس کا مقصد زرعی معیار بندی، غذائی معیار، تحقیق اور افرادی صلاحیت کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق یہ معاہدہ پاکستانی زرعی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، اس کے تحت دونوں ادارے افرادی تبادلوں، مشترکہ تحقیق، تعلیمی تعاون اور استعداد کار میں اضافے کے لیے مل کر کام کریں گے، جو زرعی جدیدکاری کے میدان میں چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ادارے ماہرین کے تبادلوں کو فروغ دیں گے، معیار بندی اور کوالٹی مینجمنٹ پر مشترکہ تربیتی پروگرام منعقد کریں گے، علمی فورمز اور کانفرنسوں کا انعقاد کریں گے اور ایک دوسرے کی اہم بین الاقوامی سرگرمیوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کریں گے۔رپورٹ کے مطابق شراکت داری کے تحت معیارات، پیمائش (میٹرولوجی)، معائنہ، جانچ، سرٹیفکیشن، ایکریڈیٹیشن اور مارکیٹ تک رسائی جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ تحقیق کی جائے گی۔ دونوں ادارے باہمی تحقیقی منصوبوں کی حمایت کریں گے اور سائنسی تعاون کے لیے ایک طویل المدتی نظام قائم کریں گے۔علمی معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے دونوں ادارے معلومات اور تحقیقی وسائل کا مشترکہ ڈیٹا بیس قائم کریں گے، ماہرین کے نیٹ ورکس کا تبادلہ کریں گے اور اپنے اپنے علمی پلیٹ فارمز کے ذریعے تحقیقی نتائج کی اشاعت اور تشہیر کو وسعت دیں گے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق معاہدے میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، طلبہ اور عملے کے تبادلہ پروگرام، مشترکہ نصاب کی تیاری، علمی اشاعتیں اور مشترکہ سیمینارز، ورکشاپس اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹراکرم نے کہا کہ معیار بندی زرعی معیار میں بہتری کی بنیاد ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ سب سے پہلی اور اہم چیز معیار ہے۔ جب ایک مرتبہ معیارات طے ہو جائیں تو ان سے کم معیار کی مصنوعات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ چین پہلے ہی معیار بندی کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کر چکا ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی نظام قائم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فوڈ انڈسٹری کو ایسے مضبوط معیار یقینی بنانے والے نظام کی ضرورت ہے جس کی بنیاد بین الاقوامی معیار کی تسلیم شدہ لیبارٹریوں پر ہو۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہمارا غذائی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ آئی ایس او سے تصدیق شدہ لیبارٹریاں، چینگڈو انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈائزیشن کے ساتھ تحقیقی تعاون کے ذریعے، صوبائی سطح پر بائیوٹیکنالوجی، فوڈ سائنس اور ٹیکنالوجی کی لیبارٹریوں کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ڈاکٹر اکرم کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان تعاون نوجوان محققین کی تربیت اور پاکستان میں جدید کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز کی بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عابد علی نے کہا کہ پاکستانی کسان اب بھی خصوصاً کپاس، آم اور چاول کی پیداوار میں کیمیائی زرعی ادویات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جس سے ماحولیاتی پائیداری اور برآمدی معیار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ کپاس کی کاشت کے دوران ایک ہی سیزن میں کئی مرتبہ زرعی ادویات کا اسپرے کیا جاتا ہے جبکہ فصل کی چنائی اب بھی بڑی حد تک خواتین دستی طور پر کرتی ہیں، جو براہِ راست کیمیائی باقیات کے اثرات کا سامنا کرتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی چین کو برآمد کی جانے والی اہم زرعی مصنوعات، یعنی آم اور چاول، بھی زرعی ادویات کے غیر مناسب استعمال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ماحول دوست متبادل طریقوں اور محفوظ پیداواری نظام پر تحقیق کی ضرورت ہے، جو گرین پاکستان انیشیٹو کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق یہ شراکت داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان بہتر معیار، سائنسی جدت، اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن نظام سے ہم آہنگی کے ذریعے اپنے زرعی شعبے کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ زرعی ٹیکنالوجی اور پائیدار کاشتکاری کے میدان میں چین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔پاکستان ایکسپورٹ اسٹریٹجی 27-2023 کے مطابق کمزور معیارات، زرعی ادویات اور کھادوں کا بے قابو استعمال، فرسودہ پیداواری ٹیکنالوجی، مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی کا فقدان، حفظانِ صحت کے اصولوں پر مو¿ثر عمل درآمد نہ ہونا اور دیگر عوامل پاکستان کی زرعی برآمدات میں رکاوٹ بننے والے اہم اسباب ہیں۔

administrator

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest news