دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میںافسران سمیت چار زخمی ،11افراد تاحال لاپتہ
کوئٹہ۔۔۔۔۔۔ کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں دہشتگردوں کے حملے کے بعد کوئٹہ کے ائےر پورٹ روڈ پر ہنہ اوڑک کے مقامی افرادکا احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا ، پولیس ، اے ٹی ایف اور سی ٹی ڈی کا علاقے میں آپریشن دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میںافسران سمیت چار زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا،11افراد تاحال لاپتہ ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں واقعہ کلی ببری پر ایک بار پھر دہشتگردوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مقامی قبائل اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چار مقامی افراد جاں بحق جبکہ 8زخمی ہوگئے تھے ۔ واقعہ کے خلاف ہنہ اوڑک کے مقامی افراد نے کوئٹہ کے ائےر پورٹ روڈ پر دھرنا دے دیا جو پیر کو دوسرے روز بھی جار ی رہا ۔ دھرنے کے موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف موثر کاروائی علاقے کو محفوظ بنانے تک احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب پولیس، سی ٹی ڈی، اے ٹی ایف اور دیگر سیکورٹی فورسز نے ہنہ کے علاقے کلی ببر ی میں آپریشن کا آغاز کردیا ہے ۔ اس دوران دہشتگردوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر وارث، اے ایس آئی سیف اللہ ،کانسٹیبل اسداللہ اور کانسٹیبل خادم حسین زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے کوئٹہ کے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ آپریشن کے دوران ایس پی نذر کو معمولی چوٹیں آئیں ۔ سیکورٹی فورسز حکام کے مطابق پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث آپریشن میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تاہم فورسز نے بیشتر علاقے میں پیش قدمی کرلی ہے جبکہ آپریشن رات گئے تک جاری رہا ۔ دوسری جانب ہنہ اوڑک کے مقامی قبائلی عمائدین کی جانب سے 11لاپتہ افراد کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے جس کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں ثناءاللہ، امیر جان ، خدائے رحیم، عرفان اللہ ،مصور خان ، محمد داﺅد، ثناءاللہ ولد سردار محمد ، مطیع اللہ، عبدالنافع ، سیف الرحمن ، وزیر محمد شامل ہیں ۔ سیکورٹی فورسز حکام نے بتایا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں تاحال معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں تاہم ان کی تلا ش جاری ہے ۔ادھر کوئٹہ میں ائےر پورٹ روڈ پر دھرنے کے باعث ٹریفک معطل رہی مختلف مقامات پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ اس صورتحال کے باعث اسکول و کالجز جانے والے طلبہ، دفاتر اور روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد اور مریضوں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے شہریوں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑا ۔



