اسلام آباد۔۔۔۔۔وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی فیصلہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے؟،افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا،آپ کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جاتی ہیں، آپ وہ واپس کرتے ہیں، نیا پولیس ایکٹ جو آیا ہے اس میں پولیس کا اختیار لینے کی کوشش کی۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ساتھ میڈیا کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے کے حالات بدلنے کے لیے ساڑھے 12 سال کافی ہوتے ہیں، اے این پی، مسلم لیگ (ن،) جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانی دے چکی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے، یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ کے پی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں؟ کے پی میں موٹر سائیکل پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں، پی ٹی آئی خیبر پختون خوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی، یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔اس موقع پر وزیر مملکت سینیٹر طلال چوہدری نے بتایا کہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت معصوم سویلینز، خواتین، بچے اور غیر مسلح ریسکیو اہلکار شہید ہوئے، ہلاک دہشت گرد کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا، تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے تصدیق ہوئی کہ اس کی تصویر کابل کے ایک چوک کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پراکسیز مشرقی سرحد سے فنڈ اور مغربی سرحد کی محفوظ پناہ گاہوں سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے دو طرفہ سطح، بین الاقوامی فورمز، ڈوزیئرز اور مذاکرات کے ذریعے بارہا کابل انتظامیہ کو سمجھایا لیکن افغان عبوری حکومت نے اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں روکا، معصوم شہریوں اور ریسکیو اہلکاروں پر حملے ڈالروں کے عوض کی جانے والی کھلی دہشت گردی ہے۔انہوں نے وزیراعلی خیبر پختونخوا کے دورہ ڈی آئی خان پر سوال اٹھایا کہ اتنی طویل پریس کانفرنس میں وزیراعلی نے افغانستان کا نام لے کر مذمت کیوں نہیں کی؟ صوبائی قیادت دہشت گردوں کے خلاف آخر کیوں نرم گوشہ اپنائے ہوئے ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے پی کی سیاسی قیادت 14 سال سے سکیورٹی فورسز کی پشت پر کھڑی نہیں ہوئی۔ کے پی حکومت بتائے کہ این ایف سی کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ صوبے میں سی ٹی ڈی آج بھی کرائے کے مکانوں میں ہے اور فورسز کے پاس نہ بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، نہ جیکٹس اور نہ ہی جدید ٹریننگ، جبکہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پولیس سے اختیارات بھی چھیننے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کے پی قیادت سکیورٹی اجلاسوں، اے پی سی اور نیشنل کانٹر ٹیررازم میٹنگز میں شرکت نہیں کرتی، صرف این ایف سی فنڈز مانگنے اسلام آباد آتی ہے،جب صوبائی حکومت قومی سلامتی کے فورمز سے راہ فرار اختیار کرے گی اور دشمن کا نام لینے سے کترائے گی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جائے گی؟صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے 325 راستوں میں سے کوئی بند نہیں کیا گیا، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عدالتی احکامات کے تحت کنٹینرز سمیت احتیاطی انتظامات رکھے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے گا، جبکہ سامان والے کنٹینرز روکنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ فرانزک لیبز، سیف سٹیز اور جدید آلات کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، مگر کے پی کے آدھے سے زائد اضلاع میں آج بھی سی ٹی ڈی موجود نہیں۔ دہشت گردی سے شدید متاثرہ پشاور میں صرف 25 کیمرے تھے اور پہلا سیف سٹی پروجیکٹ اب مکمل ہونے کے قریب ہے۔ پنجاب نے سی ٹی ڈی اور سیف سٹیز بنا کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا جبکہ کے پی حکومت نے 14 سال میں ادارے قائم نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر وفاق اور صوبوں کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
You can share this post!
administrator



