DAILY FARZAND E BALOCHISTAN

12 سال سے جیل میں قید بامشقت بھگتنے والے مبینہ آدم خور ملزم محمد عارف ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بھکر منتقل

میانوالی۔۔۔۔گزشتہ 12 سال سے جیل میں قید بامشقت بھگتنے والے مبینہ آدم خور ملزم محمد عارف کی طبیعت شدید خراب ہونے پر اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بھکر منتقل کیا گیا، جہاں چکر آنے اور شدید سر درد کی شکایت پر قانونی کارروائی کے بعد اسے ہسپتال میں داخل کر لیا گیا، علاج ومعالجہ کے دوران ڈی پی او محمد نوید قریشی نے سخت سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا، میڈیکل بورڈ نے محمد عارف کا تفصیلی معائنہ کیا اور مختلف ٹیسٹوں کے نمونے لیبارٹریز کو بھجوا دیے ہیں، میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر ندیم رضا سیال کے مطابق عارف کو تقریبا دو گھنٹے بعد ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ مزید علاج ومعالجہ کا فیصلہ ٹیسٹ رپورٹس کی روشنی میں کیا جائے گا، محمد عارف اور اس کے بھائی فرمان کو 12 سال قبل تحصیل دریاخان کے علاقے کہاوڑ کلاں سے آدم خوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کینسر سے وفات پانے والی ایک بچی اور دو سالہ بچے کی قبروں سے لاشیں نکال کر ان کا گوشت پکا کر کھایا تھا، فرمان کچھ عرصہ قبل لا علاج مرض میں مبتلا ہو کر جیل میں ہی انتقال کر گیا تھا، جبکہ اس کا بھائی محمد عارف اس وقت بھی ڈسٹرکٹ جیل میں پابند سلاسل ہے، 2011 میں دونوں بھائی پہلی بار انسانی لاشوں کا گوشت کھانے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے، اس وقت پولیس نے ان کے گھر سے انسانی گوشت کے سالن سے بھری ہانڈی اور دیگر شواہد بھی برآمد کیے تھے، رہائی کے بعد 2014 میں انہیں نے ایک اور بچے کی قبر کھود کر لاش نکالنے اور اسے کھانے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا گیا، جس پر انہیں 12 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، اس واقعے کے بعد آدم خوری کو باقاعدہ جرم قرار دینے کے لیے پنجاب اسمبلی میں ایک بل بھی پیش کیا گیا، مگر وہ آج تک قائمہ کمیٹی میں زیر التوا کا شکار ہے، یاد رہے کہ مذکورہ قیدی ڈسٹرکٹ جیل بھکر کی تعمیر سے قبل سینٹرل جیل میانوالی میں پابند سلاسل رہے ہیں، ڈسٹرکٹ جیل بھکر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ان کے چالان ڈسٹرکٹ جیل بھکر کو بھیج دئیے گئے تھے۔

administrator

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest news