اسلام آباد۔۔۔۔۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین کا مالک بنے گا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنا ایک قومی فیصلہ ہے اور ملک اب اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تیار ہے، دفاعی ادارے اور صنعتی شعبہ مل کر ڈیجیٹل جدت کو فروغ دے رہے ہیں۔ان خیالات اظہار انہوں نے بدھ کو دوروزہ راس(روبوٹکس اور خود کار نظاموں)ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دوراندیش قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے واضح وژن کو اپنایا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی صرف معیشت کا ایک شعبہ نہ ہو بلکہ پیداواری صلاحیت، روزگار اور قومی مسابقت کا اصل محرک بنے، ڈیجیٹل تبدیلی اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔شزا فاطمہ نے کہا کہ دنیا اب ڈیجیٹل دور سےذہین دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت حقیقی دنیا کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب ویلیو کری ایشن کی بنیادی بنیاد بن چکی ہے، روبوٹس فیکٹریوں سے نکل کر گوداموں، کھیتوں، سڑکوں، اہم انفراسٹرکچر، آفات زدہ علاقوں اور حتی کہ قومی سلامتی کے شعبوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو ممالک ان ٹیکنالوجیز میں قیادت کریں گے وہ مستقبل کی معیشت پر حکمرانی کریں گے جبکہ صرف صارف بننے والے ممالک دوسروں پر انحصار کرتے رہیں گے، پاکستان نے قیادت کا راستہ اختیار کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف گزشتہ روز وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت سے لیس اور شواہد پر مبنی وزیراعظم آفس سسٹم کا افتتاح کیا، جو حکمرانی کے نظام میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی قیادت نے افواج کو صرف روایتی جنگی قوت سے آگے بڑھاتے ہوئے ایک مضبوط سائبر مرکزیت رکھنے والے ادارےمیں تبدیل کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام اس وژن پر عمل درآمد کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدت، کاروباری ماحول، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایسا ماحول پیدا کر رہی ہے جہاں جدت کار نئی ایجادات کر سکیں،سٹارٹ اپس ترقی کریں،سرمایہ کار سرمایہ کاری بڑھائیں،نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کریں اور حکومت ایک موثر سہولت کار کا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، آئی سی ٹی برآمدات میں اس سال تقریبا 21 فیصد اضافہ ہواہے، آئی ٹی یو کے مطابق پاکستان سائبر سکیورٹی میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو گیا ہے، ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان 14 درجے اوپر آیا، آئی ٹی یو آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان نے 27 درجے بہتری حاصل کی۔شزا فاطمہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی سب سے اہم ٹیکنالوجی ہے جبکہ روبوٹکس اس کا عملی بازو ہے۔انہوں نے کہاکہ سوال یہ نہیں کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز کو استعمال کرے گا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ان کا مالک بنے گا، مقامی صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کی تیاری ہماری خودمختاری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آج خودمختاری صرف سرحدوں کے دفاع سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجیز پر ملک کی گرفت اور ملکیت سے بھی ناپی جاتی ہے۔انہوں نے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں نہ صرف پاکستان کی روایتی دفاعی صلاحیتوں بلکہ سائبر اور خودمختار نظاموں کی کامیابی کو بھی دنیا کے سامنے ثابت کیا۔انہوں نے کہا کہ دفاعی ادارے اور صنعتی شعبہ مل کر ڈیجیٹل جدت کو فروغ دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ کامیابیاں مجھے اعتماد دیتی ہیں کہ میں آج آپ کے سامنے بطور وزیر اور وزیراعظم کی ٹیم کے رکن یہ کہہ سکوں کہ ہم کسی سے کم نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی پسندانہ سوچ حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے اور صرف آٹومیشن تک محدود نہیں بلکہ مکمل تبدیلی کی طرف بڑھنی چاہیے۔انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ہر ماہ پیداواری روزگار سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہیں، رواں سال تقریبا 10 لاکھ نوجوانوں کو بنیادی ڈیجیٹل مہارتوں سے لے کر جدید سیمی کنڈکٹراور چپ ڈیزائن تک تربیت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم ستون حقیقی ماحول میں ٹیسٹنگ ہے، روبوٹس اس وقت حقیقی معنوں میں مفید ثابت ہوتے ہیں جب وہ فیکٹریوں سے نکل کر عملی ماحول میں کام کریں، ہمیں مزید سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کرنے ہوں گے اور روبوٹکس سسٹمز کو حقیقی حالات میں آزمانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو جدید ٹیکنالوجی کے پہلے خریدار کا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ نجی شعبہ نئے حل تیار کر سکے۔انہوں نے تیسرے ستون انفراسٹرکچر اور کمپیوٹنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا خودمختاری انتہائی اہم ہو چکی ہے، مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا، تیز رفتار رابطے، کمپیوٹنگ پاور اور محفوظ انفراسٹرکچر ضروری ہے، روبوٹکس کے لیے سینسرز، ایج کمپیوٹنگ، کمیونیکیشن، کنٹرول سسٹمز اور قابل اعتماد بجلی ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو پورے ٹیکنالوجی سٹیک میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، قومی مصنوعی ذہانت پالیسی اور نیشنل اے آئی انیشی ایٹو کے ذریعے اس پورے ماحولیاتی نظام پر کام کیا جا رہا ہے۔چوتھے ستون صنعت اور سرمایہ کاری پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعات، صنعت، سٹارٹ اپس، سرمایہ کار اور سرکاری ادارے سب کو ایک مربوط اور منظم انداز میں مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے ڈیپ ٹیکنالوجیز کے لیے خصوصی مالیاتی نظام، سٹارٹ اپس کے لیے آسان سرکاری خریداری، مشترکہ فیبریکیشن سہولیات اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ ایسے شراکتی منصوبوں پر زور دیا جن میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ جدید ٹیکنالوجیز دنیا کے اصول بدل رہی ہیں، نئی حقیقتیں تشکیل دے رہی ہیں اور قوموں کو ترقی کی کئی دہائیوں کا سفر مختصر وقت میں طے کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کر رہی ہیں، یہ ایسا موقع ہے جسے پاکستان کسی صورت ضائع نہیں کر سکتا۔
You can share this post!
administrator



